ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی بی ایم پی اور بی ایم آر سی ایل کے درمیان رسہ کشی اور بنگلور یونیورسٹی کا راستہ بند، میسور روڈ پر ٹرافک نظام میں افرا تفری سے عوام پریشان

بی بی ایم پی اور بی ایم آر سی ایل کے درمیان رسہ کشی اور بنگلور یونیورسٹی کا راستہ بند، میسور روڈ پر ٹرافک نظام میں افرا تفری سے عوام پریشان

Wed, 25 Oct 2017 11:18:23    S.O. News Service

بنگلو رو، 24؍اکتوبر(ایس او نیوز) میسور روڈ پر نما میٹرو کے کام ابھی جاری ہیں اور بی بی ایم پی نے اس راستہ کے ایک بڑے حصہ کو بی ایم آر سی ایل کے حوالہ کر دیا ہے اور بی بی ایم پی افسران کا کہنا ہے کہ اس راستہ کی دیکھ بھال اور مرمت وغیرہ کی ذمہ داری بی ایم آر سی ایل پر ہی عائد ہوتی ہے لیکن وہ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔ حال ہی میں شدید برساتوں کے بعد اس راستہ پر بڑے بڑے گڑھوں کی پیدا ہوجانے کی وجہ سے یہاں سواریوں کی آأمد و رفت ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے، ایک بڑے گڑھے کی وجہ سے حادثہ کا شکار ہو کر ایک خاتون کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا تھا جس کے بعد اس گڑھے کو بند کیا گیا تھا لیکن غیر معیاری کام کی وجہ سے کہا جا رہا ہے کہ وہ گڑھے دوبارہ نمودار ہو گیا ہے۔ بی بی ایم پی اور بی ایم آر سی ایل دونوں اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے ہیں کوئی بھی عوام کی زندگیوں کے تعلق سے سنجیدہ ہونے کے لئے تیار نہیں، دوسری طرف بنگلور یونیورسٹی کے راستہ کو بند کردئے جانے کی وجہ سے اس راستہ پر ٹرافک نظام میں شدید افرا تفری دیکھی جاتی ہے۔خاص طور پر شام کے اوقات میں میسور روڈ کے آنے یا جانے والوں کو گھنٹوں راستہ پر وقت گزارنا پڑتا ہے۔حالیہ دنوں میں بنگلور یونیورسٹی کے احاطہ میں بڑھتے ہوئے جرائم کے پیش نظر یونیورسٹی نے شام چھ بجے کے بعد سے یونیورسٹی کے راستہ کو عوام کے لئے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور ساتھ ہی اپنے حفاظتی دستوں کو زیادہ مستعد اور فعال بنانے کا منصوبہ بھی تیار کیا تھا۔حالانکہ اس منصوبے پر ریاستی حکومت کی اجازت کی مہر لگنی ابھی باقی ہے لیکن اس کے باوجود یونیورسٹی نے خود اپنے طور پر یونیورسٹی کے راستہ پر عوام کے داخلہ کو روکنے کے اقدامات شروع کر دئے ہیں جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے باہر افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔واضح رہے کہ بنگلور یونیورسٹی نے سائنس کے شعبہ کے راستہ کو بند کر دیا ہے،جو اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا اور ناگر بھاوی سرکل کو جوڑتا ہے۔اس وقت اس راستہ پر صرف طلباء، اساتذہ، عملہ اور اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے اراکین کو آنے جانے کی اجازت دی گئی ہیں اور انہیں اپنے شناختی کارڈ دکھانے ہوتے ہیں۔مگر اس پابندی نے قریب کے علاقوں میں افرا تفری پیدا کردی ہے اور اس کی وجہ سے ٹرافک میں زبر دست بد نظمی پیدا ہو گئی ہے۔ناگر بھاوی کے ایک مکین سنتوش شیٹی کا کہنا ہے کہ، وہ جہاں اس یونیورسٹی میں عوامی سواریوں کے داخلہ پر پابندی کی سوچ کو قابل تحسین سمجھتے ہیں، اسی کے ساتھ ان کا خیال ہے کہ یہ اقدام زیادہ منصوبہ بند اور مرحلہ وار ہونا چاہئے تھا۔انہوں نے بتایا کہ ’’اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اس کی وجہ سے آس پاس کے تمام راستے بند ہو گئے ہیں‘‘۔میسور روڈ اگرچہ کہ ہمیشہ سے مصروف ترین راستہ رہا ہے لیکن حالیہ دنوں میں یہاں میٹرو کے کام نے اس راستہ کو مزید تنگ بنا دیا ہے اور شہر کے سب سے زیادہ مصروف ترین راستوں میں سے ایک میسور روڈ کا راستہ بن گیا ہے، اسی لئے اکثر سوار اس افراتفری سے بچنے کے خیال سے یونیورسٹی کا اندرونی راستہ اختیار کرتے ہیں۔این ایل ایس آئی یو کے قریب رہنے والے ششی کمار نے کہا کہ’’اب لوگوں کے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں رہ گیا ہے، جو لوگ کینگیری کی طرف جانے والے ہوتے ہیں وہ بھی اسی راستہ کو اختیار کر رہے ہیں، گاڑی سوار اکثر یونیورسٹی ہیڈ کوارٹرس سے ہوتے ہوئے عموماً این ایل ایس آئی یو سے اندر داخل ہوتے ہیں، مصروف اوقات میں یہ راستہ بہت ہی زیادہ بھرا ہوا ہوتا ہے، بنگلور یونیورسٹی کے حکام کو چاہئے کہ اس سلسلہ میں مناسب انداز سے منصوبہ بندی کریں‘‘۔بنگلور یونیورسٹی کے رجسٹرار (انتظامیہ) کے این ننگے گوڈا کا کہنا ہے کہ’’اس مقام پر علاقہ کے مکینوں کو جو پریشانی لاحق ہے وہ صرف وقتی ہے، بہت جلد اس راستہ کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔عوام کو صرف مین روڈ (ڈبل روڈ جو میسور روڈ کو یونیورسٹی کوارٹرس سے جوڑ تا ہے)کے استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔میرا مشورہ ہے کہ گاڑیاں چلانے والے رنگ روڈ کو استعمال کریں، اس کی وجہ سے یونیورسٹی کے احاطہ میں تعلیمی ماحول کے تحفظ میں مدد حاصل ہوگی‘‘۔بنگلور یونیورسٹی کے حکام اور طلباء کے مطابق اس احاطہ میں جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوتا رہا ہے، بڑی مقدار میں صندل کی لکڑی چوری ہو رہی ہے اور لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے معاملات بھی بڑھے ہیں۔حالانکہ یونیورسٹی کے داخلہ پر حفاظی آؤٹ پوسٹ بنا ہوا ہے مگر یہاں کے عملہ کے اراکین مناسب انداز میں بڑے جرائم کا مقابلہ کرنے کے لئے ہتھیارات سے لیس نہیں ہیں۔بہر حال سرکاری ادادے چاہے وہ بی بی ایم پی ہو ، بی ایم آر سی ایل یا پھر بنگلور یونیورسٹی ان سب کی انتظیمی بے ترتیبیوں کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔


Share: